Malik Falak Sher Awan - Talagang
Malik Falak Sher Awan, the Next Candidate for NA-61
چکوال :مسلم لیگ ن کے سینئیر راہنما ملک فلک شیر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تلہ گنگ کو ضلع بنانے کےلئے ہم پوری کوشش کر رہے ہیں اور اعلی قیادت کو بھی اس مطالبے پر کان دھرنا ہو گا.ضلع میں ایجوکیشن اور ہیلتھ کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اپنی مدد آپ کے تحت بھی مسائل حل کررہے ہیں.جن پارٹی راہنماوں نے انتخابات میں اعلی قیادت کے فیصلوں کے برعکس پینل میدان میں اتارا انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ خود کیسے منتخب ہوئے تھے.ملک فلک شیر اعوان نے کہا کہ پہلے میری سپورٹ سے ایم این اے منتخب ہوتا تھا اب عوام کا بھرپور دباو ہے کہ میں خود میدان میں اتروں اور عوامی مسائل کے حل کےلئے کردار ادا کروں اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار این اے 61 سے میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کےلئے اپلائی کروں گا.اور عوام کے مسائل انکی دہلیز پر حل کریں گے.انکا کہنا تھا کہ نو منتخب چئیرمین ضلع کونسل چکوال ملک طارق اسلم پینل کو میری اس لئے بھرپور سپورٹ حاصل تھی کیونکہ وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں اور انہوں نے عوامی مسائل کے حل کےلئے اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے جو عوام کے سامنے ہے.انہوں نے کہا کہ زاتی مفادات کے گرد گھومنے والوں کےلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں.اور ایسے عناصر نے پینتیس سال سے زائد عرصےسے عوامی حقوق کو غصب کیا ہے.سردار غلام عباس کی شمولیت سے مسلم لیگ ن مضبوط ہوئی ہے اور سردار غلام عباس خان ایک سینئیر سیاستدان ہیں جو سیاست کرنا جانتے ہیں.انکا کہنا تھا کہ ملک سلیم اقبال نے ہمیشہ عوامی مفادات کا تحفظ کیا اور اسی بدولت عوام نے بھی ان پر اعتماد کا اظہار کیا.ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ مجھے سیاست کا شوق نہیں خدا کا شکر ہے میرا وسیع کاروبار ہے پاکستان میں ہائی ٹیکس پئیرز کی لسٹ میں اولین نمبروں میں میرا نام شامل ہے مگر عوام کے مسائل کے حل کےلئے کارزار سیاست میں حصہ لینا پڑتا ہے.میں نے متعدد یونین کونسلوں میں اکیلے اپنے بل بوتے پر سیٹیں جیتیں اور اپوزیشن کا بھرپور مقابلہ کیا جو عوام مجھ پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے اور میں عوامی اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا.ہر صورت میں عوام کو اولیت دوں گا میں دوستوں کے ساتھ وفا نبھانا جانتا ہوں .انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں اختلافات کو ختم ہونا چاہئے لیکن اختلافی قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ یاد رکھیں کہ انکی طاقت میاں نواز شریف اور پارٹی سے ہے اور پارٹی مفادات سے ہٹ کر زاتی مفادات کےلئے پارٹی کو داو پر نہیں لگانا چاہیے.

Leave comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *.